3 مارچ 2026 - 23:48
ایران نئے رہبر کے تعین کی راہ پر، مجلس خبرگان حتمی رائے شماری میں مصروف

آگاہ ذرائع کے مطابق، خبرگان قیادت کونسل کے منظم اجلاسوں کا سلسلہ ـ پرامن فضا میں ـ جاری ہے اور یہ سلسلہ حتمی مراحل میں ہے اور بہت جلد ـ ممکن ہے کہ ـ نئے رہبر کے تعین کا اعلان بھی ہو جائے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کی شہادت کے بعد، اسلامی نظام نئے رہبر کے انتخاب کے مرحلے میں داخل ہؤا ہے۔

گوکہ دشمن کی تشہیری مہم ایران میں افراتفری کی تصویر پیش کرنے کے لئے کوشاں ہے، اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے طریقہ کار میں کسی قسم کا تعطل نہیں ہے، اور اس میں ہر قسم کے حالات کے لئے راہ حل موجود ہے۔

رہبر انقلاب کی شہادت کے فورا بعد، اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے آرٹیکل 111 کی بنیاد پر، صدر، عدلیہ کے سربراہ اور گارٹین کونسل کے ایک فقیہ رکن پر مشتمل عارضی قیادت کونسل قائم کی گئی ہے اور اس کونسل نے ملکی انتظام سنبھال لیا۔

مجلس خبرگان کا اجلاس جاری ہے، اجلاس پر بمباری کی خبر کی تردید

دریں اثناء امریکی ـ صہیونی دہشت گردوں نے مجلس خبرگان کی عمارت کو نشانہ بنایا لیکن یہ عمارت خالی تھی اور اجلاس اس عمارت میں منعقد نہیں ہؤا تھا؛ اور سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اجلاسوں کا انعقاد دیگر روشوں سے انجام پاتا ہے۔  

 باخبر ذرائع کہتے ہیں کہ خبرگان قیادت کونسل کے منظم اجلاسوں کا سلسلہ ـ پرامن فضا میں ـ جاری ہے اور یہ سلسلہ حتمی مراحل میں ہے اور بہت جلد ـ ممکن ہے کہ ـ نئے رہبر کے تعین کا اعلان بھی ہو جائے۔

کہا جاتا ہے کہ مذاکرات بھی تیزرفتاری کے ساتھ جاری ہیں اور خبرگان کونسل کے بعض ارکان نے کہا ہے کہ رہبر کا تعین بہت تیزی سے انجام پا رہا ہے۔  

ایک سوال یہ ہے کہ کیا رہبر شہید نے اپنے بعد کسی فرد یا افراد کو جانشین کے طور پر منتخب ہونے کی غرض سے منتخب کیا تھا؟ اور اس کا جواب یہ ہے کہ امام خامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) نے کسی کو منتخب نہیں کیا ہے اور اس کام خبرگان کونسل کے سپرد کیا ہے۔

اس کے باوجود، رہبر انقلاب نے عشروں کے دوران، آنے والے رہبر کے لئے کچھ قواعد اور معیارات متعارف کرائے ہیں جن میں استکبار کے خلاف جہاد، شجاعت، زہد و تقویٰ، عدالت، زمانے سے مکمل آگہی انتظامی صلاحیت وغیرہ شامل ہیں۔

اس وقت امریکی اور صہیونی و مغربی شیاطین ایران میں طاقت کے خلاء کا دعویٰ کرتے ہیں، آئین میں موجود طریقہ کار پوری طاقت سے کام کر رہا ہے۔

لگتا ہے کہ چونکہ خطے کی صورت حال بہت حساس ہے اور دو طرفہ حملے جاری ہے چنانچہ تعین و انتخاب کے نتیجے کا اعلان اگلے اوقات یا ایام تک ملتوی ہو سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha